KHAK NASHEEN COMPLETE NOVEL BY SUMIYA BALOCH

 


 Novels Details:

Novel Name : KHAK NASHEEN

 Writer Name :  SUMIYA BALOCH 

Category : Most Romantic  Novel, age difference, second marriage based

Status : Complete...

Source : Drive [Free Link ]

Urdu Novalists is a platform of unique,best,romantic Urdu novels.we launched this paltform to provide our readers with the best content.Urdu Novalists is a platform launched for writers as well as readers.Readers to provide with the best content and also giving chance to writers to publish their writings.

 SUMIYA BALOCH  wrote many novels one of them is  "KHAK NASHEEN".It is most Romantic Urdu novel of all the times.She wrote many romantic novels,very romantic novels which you can read and one of them is her novel which is mentioned above and now available in pdf form.

GLIMPSE;

"شایان یار... یہ ابھی بچی ہے، ناسمجھ ہے، اس کے ہاتھوں میں  کھلونے ہونے چاہییں،ناکہ یہ نکاح نام کی زنجیر۔ تم یہ قدم نہیں اٹھا سکتے، یہ... یہ غلط ہے۔"


شاہ فیصل خان کی آواز میں سختی بھی تھی، التجا بھی۔ وہ وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس دل رکھنے والا شخص بھی تھا۔ سامنے بیٹھا شایان خان بزنجو، اپنی مخصوص خاموشی میں خطرناک حد تک پرعزم لگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ موجود  نوری وہ کم عمر سی سہمی ہوئی لڑکی، جو خاموشی سے اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔


"فیصل!" شایان کی آواز میں ایسی سنجیدگی تھی جو عام حالات میں کسی سردار کے لہجے میں نہیں ہوا کرتی۔

"تم مجھے روک سکتے ہو، بحث بھی کر سکتے ہو، لیکن تم مجھ سے زیادہ اس سماج کو جانتے ہو، اس کی سفاکیت کو محسوس کرتے ہو۔ میں اس نکاح کو محض ایک رسم نہیں بلکہ بغاوت کا پہلا پتھر سمجھتا ہوں۔ میں یہ نکاح اس لیے نہیں کر رہا کہ مجھے نوری سے کوئی لگاؤ ہے... بلکہ اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ اگر آج میں نے اسے اپنی حفاظت میں نہ لیا... تو کل میرا چاچا — وہ درندہ صفت سردار ہے۔ اسے اپنے نام کی مہر لگا کر حویلی کی چار دیواری میں دفن کر دے گا وہ انسان۔"


شایان نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کمرے میں چہل قدمی شروع کی، جیسے لفظوں کو تول رہا ہو، پھر رک کر فیصل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔


"تم تو جانتے ہو فیصل، ہمارے یہاں مرد کے ہر گناہ کی قیمت عورت کو چکانی پڑتی ہے۔ وہ عورت چاہے بیٹی ہو، بہن ہو یا کسی کی بیوی۔ اگر میں آج نوری کو بچا نہ سکا، تو شاید کل کوئی اور نوری بھی ایسے ہی قربان ہو جائے گی۔ اس سودے بازی کی رسم کو کوئی تو ختم کرے۔ میں وہ پہلا ہاتھ بڑھانا چاہتا ہوں، جو اسے بچا سکے۔"


فیصل نے ایک گہرا سانس لیا، نگاہیں نوری پر پڑیں، جو سہمی ہوئی، خاموش، لیکن شایان پر مکمل یقین کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے شایان کی آنکھوں میں وہ چنگاری دیکھی جو انقلاب لانے والوں کی آنکھوں میں ہوا کرتی ہے۔

"شایان... تمہاری باتوں سے مجھے آج یہ یقین ہو گیا کہ تم صرف بزنجو خاندان کے فرد نہیں، بلکہ اس دھرتی کی ان بیٹیوں کے محافظ ہو جنہیں ہر بار طاقت کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ تمہارا یہ قدم شاید ایک نکاح ہو، لیکن اس کے بعد کئی باپ، کئی بھائی اور کئی سردار اپنے فیصلوں سے شرمندہ ہوں گے۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر ایک بے جوڑ رشتہ، ایک مظلوم لڑکی کو برباد ہونے سے بچا سکتا ہے... تو خدا کی قسم، یہ نکاح غلط نہیں بلکہ سب سے بڑا ثواب ہے۔"شاہ فیصل خان نے کہا ۔

Novel Link :

Click here to download this novel in pdf form

Free pdf link

Click on Download

DOWNLOAD

👆👆👆👆👆👆👆👆

ناول پڑھنے کے لئے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

Also give your feedback after reading this awesome novel.

فیڈ بیک دینا مت بھولئے گا

Post a Comment

Previous Post Next Post