| Novel Name : | TASWER E MAN |
| Writer Name : | BY F N |
| Category : |
, rude hero based, wani based |
| Status : | Complete... |
| novel code | UDNV100257 |
About Web:
Urdu Novalists is a platform of unique,best,romantic Urdu novels.we launched this paltform to provide our readers with the best content.Urdu Novalists is a platform launched for writers as well as readers.Readers to provide with the best content and also giving chance to writers to publish their writings.
About Author:
About Novel:
Glimpse:
مجھے سہیل خان کی منگ ونی میں چاہئے یا پھر سہیل خان ۔۔اُس معصوم سی 18 سالہ لڑکی کو ونی میں مانگا کا چکا تھا۔۔منگیتر کی غلطی کی سزا وہ معصوم چکانے جا رہی تھی۔۔
بھرے مجمع میں اس وقت موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
جرگے میں موجود سبھی افراد کی نظریں سامنے بیٹھے اس مغرور شخص پر ٹکی تھیں
جو سفید لباس پہنے ان کے سامنے بیٹھا تھ
سرخ و سفید رنگت مغرور کھڑی ستواں ناک کشادہ پیشانی گہری سیاہ آنکھیں
گھنی مونچھیں تکے عنابی لب آپس میں پیوست تھے۔۔
آج صرف جرگے کا فیصلہ ہی اسکے ہاتھ میں نہیں تھا بلکہ کسی کی زندگی کا فیصلہ بھی آج اسے ہی کرنا تھا۔
"کہیں مہمند خانزادہ کیا ہے آپ کا فیصلہ؟" سر پنچ صاحب کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال پر وہاں موجود سبھی لوگ دم سادھ کر اب فیصلے کے منتظر تھے۔۔
ایک نظر سبھی پر ڈالتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
"مجھے خون کے بدلے خون نہیں چاہئے"سناٹے کو چیرتی اسکی آواز گونجی تو اسکے لفظوں پر سامنے ,سر جھکائے افراد کی آنکھیں چمکی تھیں
"بلکہ مجھے خون کے بدلے اوزے گل خون بہا میں چاہیے" اسکی اگلی بات نے اچکزئی خاندان کے لوگوں کی سانسیں کھینچیں تھیں۔
"یہ ناممکن ہے وہ کسی کی منگ ہے"
اسکا بھائی چیخا تو کشادہ پیشانی پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا
"تو پھر خون دے دیں مجھے اعتراض نہیں"اسکی اگلی بات پر سب کو سانپ سونگھ گیا تھا
__________
لال حویلی میں اس وقت ایک عجیب سا شور تھا۔
"کیا ہوا ہے کشمالہ؟" بڑی اماں گھبرائے ہوئے لہجے میں اپنے کمرے سے باہر آئی تھیں
صبحِ سے وہ جائے نماز بچھائے بیٹھی تھیں
"پنچائیت کا فیصلہ آگیا ہے بڑی اماں۔۔۔"
کشمالہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ بڑی اماں کا دل کانپ اٹھا
"کیا فیصلہ آیا ہے مالا بول نا"
ان کا دل پھٹے جارہا تھا
"خانزادوں نے خون کے بدلے خون لینے سے منع کر دیا ہے"
کشمالہ کے بتانے پر پلر کی اوٹ سے جھانکتے وہ سبز نین پرسکون ہوئے تھے۔
"تو پھر فیصلہ کیا ہوا؟"
بڑی اماں کو بے چینی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا
"اوزے گل کو خون بہا میں مانگا ہے انہوں نے"فیصلہ سناتی وہ پلر کی اوٹ میں کھڑی اوزے گل کو جامد کر گئی تھی۔۔
"یا میرے اللہ یہ کیا بول رہی ہے کشمالہ ہماری اوزے نا نا نا۔۔ وہ سہیل خاناں کی منگ ہے اسکا خون بہا کیسے ؟""
ان کا دل تڑپ اٹھا تھا
"مہمند خانزادہ یہ یہی شرط رکھی ہے بڑی اماں یا تو لالہ کا خون یا اوزے گل"
مہمند خانزادہ کا نام سنتے سبز نگینوں میں پانی بھرنے لگا تھا بے یقین سی ہوتے وہ قدم الٹے لیتی بھاگ کر اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔
Novel Link :
Click to download this novel in pdf form
ناول پڑھنے کے لئے دیے گئے لنک پر کلک کریں
📂 PDF Download
👇 Download this novel now
فیڈ بیک دینا مت بھولئے گا
